غزل 10

اشعار 10

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں

مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ

سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ

کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں

تمام عمر کی بے تابیوں کا حاصل تھا

وہ ایک لمحہ جو صدیوں کے پیش و پس میں رہا