جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے

عباس رضوی

جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے

عباس رضوی

MORE BYعباس رضوی

    جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے

    اب وہ رابطہ جیسے رہ گزر کا رشتہ ہے

    صبح تک یہ موجیں بھی تھک کے سو ہی جائیں گی

    چاند کا سمندر ہے رات بھر کا رشتہ ہے

    یہ جو اتنے سارے دل ساتھ ہی دھڑکتے ہیں

    کچھ قلم کا ناطہ ہے کچھ ہنر کا رشتہ ہے

    تیز ہیں تو کیا غم ہے تند ہیں تو شکوہ کیا

    ان ہواؤں سے اپنا بال و پر کا رشتہ ہے

    اس حسیں تصور کا میری سرخ آنکھوں سے

    آب و گل کا ناطہ ہے بام و در کا رشتہ ہے

    ایک ناتواں رشتہ اس سے اب بھی باقی ہے

    جس طرح دعاؤں کا اور اثر کا رشتہ ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 186)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : Room No.-1,1st Floor, Awan Plaza, Shadman Market, Lahore (Issue No. 7,8 Oct 1998 To Mar.1999)
    • اشاعت : Issue No. 7,8 Oct 1998 To Mar.1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY