گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

عباس رضوی

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

عباس رضوی

MORE BYعباس رضوی

    گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

    سفر تمام ہوا اور ہم سفر بھی گئے

    اسی نظر کے لئے بے قرار رہتے تھے

    اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے

    ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر

    کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے

    یہ سیل اشک ہے برباد کر کے چھوڑے گا

    یہ گھر نہ پاؤ گے دریا اگر اتر بھی گئے

    سحر ہوئی تو یہ عقدہ بھی طائروں پہ کھلا

    کہ آشیاں ہی نہیں اب کے بال و پر بھی گئے

    بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

    کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

    شجر کے ساتھ کوئی برگ زرد بھی نہ رہا

    ہوا چلی تو بہاروں کے نوحہ گر بھی گئے

    مآخذ :
    • کتاب : Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 187)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : Room No.-1,1st Floor, Awan Plaza, Shadman Market, Lahore (Issue No. 7,8 Oct 1998 To Mar.1999)
    • اشاعت : Issue No. 7,8 Oct 1998 To Mar.1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY