547
Favorite

باعتبار

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں

مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ

سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ

کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں

تمام عمر کی بے تابیوں کا حاصل تھا

وہ ایک لمحہ جو صدیوں کے پیش و پس میں رہا

ایک ناتواں رشتہ اس سے اب بھی باقی ہے

جس طرح دعاؤں کا اور اثر کا رشتہ ہے

وحشت کے اس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ

جانے کہاں سے آئے تھے جانے کدھر گئے

میں جو چپ تھا ہمہ تن گوش تھی بستی ساری

اب مرے منہ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

کیا کروں خلعت و دستار کی خواہش کہ مجھے

زیست کرنے کا سلیقہ بھی زیاں سے آیا

وہ حبس تھا کہ ترستی تھی سانس لینے کو

سو روح تازہ ہوئی جسم سے نکلتے ہی