دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

عباس رضوی

دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

عباس رضوی

MORE BYعباس رضوی

    دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

    بدل گئے مرے موسم ترے بدلتے ہی

    سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے

    لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی

    کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی

    کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی

    وہ دوست تھا کہ عدو میں نے صرف یہ جانا

    کہ وہ زمین پہ آیا مرے سنبھلتے ہی

    بدن کی آگ نے لفظوں کو پھر سے زندہ کیا

    حروف سبز ہوئے برف کے پگھلتے ہی

    وہ حبس تھا کہ ترستی تھی سانس لینے کو

    سو روح تازہ ہوئی جسم سے نکلتے ہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY