تشنگی پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں تشنگی کا لفظ میخانے اورساقی کےموضوع سے وابستہ ہے۔ شراب پینے والے کے مقدرمیں ازلی تشنگی ہے وہ جتنی شراب پیتا ہے اتنی ہی طلب اورتشنگی بڑھتی جاتی ہے ۔ یہ شراب جوتشنگی بڑھاتی ہے معشوق کی آنکھوں کا استعارہ بھی ہے ۔ تشنگی اورپیاس کا لفظ جدید شاعری میں کربلا کے سیاق میں کثرت سے برتا گیا ہےاوراس موضوع میں بہت سی نئی جہتوں کا اضافہ ہوا ہے ۔

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

راحت اندوری

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

the tavern does not even give that much wine to me

that I was wont to waste in the goblet casually

دواکر راہی

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

نامعلوم

ساقیا تشنگی کی تاب نہیں

زہر دے دے اگر شراب نہیں

داغؔ دہلوی

وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا

پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

آنس معین

وہ سامنے ہیں مگر تشنگی نہیں جاتی

یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے

نامعلوم

ایسی پیاس اور ایسا صبر

دریا پانی پانی ہے

وکاس شرما راز

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو

شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

those people have been parched for many many years

to whom even a drop of dew an ocean appears

قیصر الجعفری

کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی

اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں

جگر مراد آبادی

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر

بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

ساقی فاروقی

آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقی

لطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقی

آل احمد سرور

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے

مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

داغؔ دہلوی

ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

خواجہ میر درد

جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے

کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں

فرحت احساس

پھر اس کے بعد ہمیں تشنگی رہے نہ رہے

کچھ اور دیر مروت سے کام لے ساقی

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب

مرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب

شیخ ظہور الدین حاتم

دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

فارغ بخاری

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے

فیصل عجمی

وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے

پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے

محسن اسرار

پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی

لاکھ دجلے بنا فرات بنا

غلام محمد قاصر