برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے
کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے
-
موضوع : تشنگی
قید آوارگیٔ جاں ہی بہت ہے مجھ کو
ایک دیوار مری روح کے اندر نہ بنا
-
موضوع : قید
ہماری روح پرندوں کو سونپ دی جائے
کہ یہ بدن تو گنہ گار ہو گئے صاحب
-
موضوع : پرندہ