انجم فوقی بدایونی
غزل 35
اشعار 6
اس نے مجبور وفا جان کے منہ پھیر لیا
مجھ سے یہ بھول ہوئی پوچھ لیا کیسے ہو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے
جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تم اپنی آنکھوں کی لالی پھولوں میں تقسیم کرو
میرے دل کا حال نہ پوچھو رہنے دو جس حال میں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایک رہیں یا دو ہو جائیں رسوائی ہر حال میں ہے
جیون روپ کی ساری شوبھا جیون کے جنجال میں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ مصلحت تھی کہ ان کے حضور لب نہ ہلے
یہ حادثہ ہے کہ دل سے بھی کچھ کہا نہ گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے