محبوب پر شاعری

محبوب کے بارے میں کون سننا یا کچھ سنانا نہیں چاہتا ۔ ایک عاشق کے لئے یہی سب کچھ ہے کہ محبوب کی باتیں ہوتی رہیں اور اس کا تذکرہ چلتا رہے ۔ محبوب کے تذکرے کی اس روایت میں ہم بھی اپنی حصے داری بنا رہے ہیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے جو محبوب کی مختلف جہتوں کو موضوع بناتا ہے ۔

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا

مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

اختر سعید خان

آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ

چاند کمرے میں مرے اترا ہے

خالد شریف

ادا و ناز و کرشمہ جفا و جور و ستم

ادھر یہ سب ہیں ادھر ایک میری جاں تنہا

شیخ ظہور الدین حاتم

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام

مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بشیر بدر

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مرے کاغذ پر

چھت پہ آ جاؤ مرا شعر مکمل کر دو

بشیر بدر

چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا

چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

انجم عرفانی

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

نامعلوم

دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے

اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

فرحت احساس

اک تجھ کو دیکھنے کے لیے بزم میں مجھے

اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا

فنا نظامی کانپوری

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے

ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

نامعلوم

ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے

وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے

جمیل ملک

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

بشیر بدر

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے

جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

جلیل مانک پوری

جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سے

چاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہے

قمر جلالوی

جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم

اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

امجد اسلام امجد

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you

Some people said it was the moon,and some said that it was you

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you

Some people said it was the moon,and some said that it was you

ابن انشا

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

I wonder to what misgivings she is prone

that even in my dreams she's not alone

I wonder to what misgivings she is prone

that even in my dreams she's not alone

شیخ ابراہیم ذوقؔ

کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے

یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

کلیم عاجز

کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتے

معشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی

داغؔ دہلوی

میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا

کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

جگر مراد آبادی

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

بیخود دہلوی

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے

ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

جگر مراد آبادی

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جلیل مانک پوری

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

dying for that faithless one again

my life, the same, does then remain

dying for that faithless one again

my life, the same, does then remain

مرزا غالب

پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا

تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے

اشفاق حسین

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حسرتؔ موہانی

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

خمارؔ بارہ بنکوی

سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔ

جس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیں

فراق گورکھپوری

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے

ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

قمر جلالوی

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں

محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

close to me you are there

should I speak or should I stare/see

close to me you are there

should I speak or should I stare/see

فراق گورکھپوری

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

منور رانا

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

حفیظ بنارسی

وہ چاندنی میں پھرتے ہیں گھر گھر یہ شور ہے

نکلا ہے آفتاب شب ماہتاب میں

جلیل مانک پوری

ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گا

اپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے

مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی

what is labeled living, how is death defined

Finding your favour, when you are unkind

what is labeled living, how is death defined

Finding your favour, when you are unkind

رشید لکھنوی

Added to your favorites

Removed from your favorites