یاد پر شاعری

یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے

فیض احمد فیض

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

فراق گورکھپوری

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

انور شعور

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں

ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

you did not ever think of me even by mistake

and in your thoughts everything else I did forsake

you did not ever think of me even by mistake

and in your thoughts everything else I did forsake

بہادر شاہ ظفر

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب

اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

احمد فراز

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

احمد فراز

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

جون ایلیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحتؔ اندوری

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر

اب کسے رات بھر جگاتی ہے

جون ایلیا

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

فراق گورکھپوری

اک عجب حال ہے کہ اب اس کو

یاد کرنا بھی بے وفائی ہے

جون ایلیا

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے

غالباً میں کسی کو بھول گیا

جون ایلیا

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

میر تقی میر

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

حسرتؔ موہانی

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

گلزار

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

فراق گورکھپوری

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ

بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

جمال احسانی

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا

کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے

جلیل مانک پوری

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

ناصر کاظمی

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا

جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا

یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

جون ایلیا

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے

اختر سعید خان

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں

آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں

اقبال کوثر

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری

ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

محشر عنایتی

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

مخدومؔ محی الدین

ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد

وقت کتنا قیمتی ہے آج کل

her mention, her yearning her memory

O how precious time now seems to me

her mention, her yearning her memory

O how precious time now seems to me

شکیل بدایونی

جس کو تم بھول گئے یاد کرے کون اس کو

جس کو تم یاد ہو وہ اور کسے یاد کرے

him whom you have forgotten who else will recall

he who thinks of you will think of no one else at all

him whom you have forgotten who else will recall

he who thinks of you will think of no one else at all

جوشؔ ملسیانی

یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے

کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست

احمد فراز

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا

ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

ناصر کاظمی

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اختر انصاری

جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی

جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی

When your thoughts arose, fragrant was the morn

When your sorrow's woke, the night was all forlorn

When your thoughts arose, fragrant was the morn

When your sorrow's woke, the night was all forlorn

فیض احمد فیض

تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا

تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے

ندا فاضلی

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے

کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

منور رانا

یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں

سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

گلزار

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ

مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے

یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے

احمد فراز

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا

آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

اقبال اشہر

Added to your favorites

Removed from your favorites