مایوسی پر شاعری

مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے پیکار کئے جانے کا نام ہی ہے ۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے والا ہمارا یہ انتخاب زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے ۔

آج تو بے سبب اداس ہے جی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

ناصر کاظمی

آس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں

کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

منشی امیر اللہ تسلیم

اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام

تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا

مصحفی غلام ہمدانی

ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب

ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں

ساحر لدھیانوی

بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

عابد ملک

بہت دنوں سے مرے بام و در کا حصہ ہے

مری طرح یہ اداسی بھی گھر کا حصہ ہے

خوشبیر سنگھ شادؔ

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

ناصر کاظمی

چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ساحر لدھیانوی

دیکھتے ہیں بے نیازانہ گزر سکتے نہیں

کتنے جیتے اس لیے ہوں گے کہ مر سکتے نہیں

محبوب خزاں

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

ناصر کاظمی

دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفقؔ

شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے

فاروق شفق

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

علامہ اقبال

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

خمارؔ بارہ بنکوی

ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل

اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی

وسیم بریلوی

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

ناصر کاظمی

ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت

دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

ساحر لدھیانوی

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی

ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

مہیش چندر نقش

اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں

جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم

کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں

اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

بشیر بدر

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے

بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

بشیر بدر

کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں

مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں

اختر سعید خان

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا

اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

عادل منصوری

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

بہادر شاہ ظفر

کوئی تو ایسا گھر ہوتا جہاں سے پیار مل جاتا

وہی بیگانے چہرے ہیں جہاں جائیں جدھر جائیں

ساحر لدھیانوی

کچھ اتنے ہو گئے مانوس سناٹوں سے ہم اخترؔ

گزرتی ہے گراں اپنی صدا بھی اب تو کانوں پر

اختر ہوشیارپوری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

my heart, these dismal ruins, cannot now placate

who can find sustenance in this unstable state

my heart, these dismal ruins, cannot now placate

who can find sustenance in this unstable state

بہادر شاہ ظفر

مایوسئ مآل محبت نہ پوچھئے

اپنوں سے پیش آئے ہیں بیگانگی سے ہم

ساحر لدھیانوی

مرے دل کے اکیلے گھر میں راحتؔ

اداسی جانے کب سے رہ رہی ہے

حمیرا راحتؔ

مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکن

اداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا

اقبال ساجد

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

عزیز حامد مدنی

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

ناصر کاظمی

نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں

اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں

فیض احمد فیض

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر

آرزو کی آرزو ہونے لگی

داغؔ دہلوی

ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر

آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

فانی بدایونی

نا امیدی ہے بری چیز مگر

ایک تسکین سی ہو جاتی ہے

بسمل سعیدی

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

ابن انشا

رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی

کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا

احمد مشتاق

سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں

چاند راتوں کو چیختا ہے بہت

آلوک مشرا

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری

شام ہجراں بھی اک قیامت تھی

آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

مہیش چندر نقش

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ساحر لدھیانوی

اداسیاں ہیں جو دن میں تو شب میں تنہائی

بسا کے دیکھ لیا شہر آرزو میں نے

جنید حزیں لاری

ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں

اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی

ساحر لدھیانوی

اٹھتے نہیں ہیں اب تو دعا کے لیے بھی ہاتھ

کس درجہ ناامید ہیں پروردگار سے

اختر شیرانی

یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیں

تجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت

محمود شام

Added to your favorites

Removed from your favorites