noImage

فاروق شفق

1945 - 1996

غزل 18

اشعار 11

ہونے والا تھا اک حادثہ رہ گیا

کل کا سب سے بڑا واقعہ رہ گیا

دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفقؔ

شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے

اپنی لغزش کو تو الزام نہ دے گا کوئی

لوگ تھک ہار کے مجرم ہمیں ٹھہرائیں گے

آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا

ہاتھ میں اک سوکھا پتا رہ گیا

شہر میں جینا ہے چلنا دو رخی تلوار پر

آدمی کس سے بچے کس کی طرف داری کرے

  • شیئر کیجیے