غزل 15

اشعار 18

حضور آپ کوئی فیصلہ کریں تو سہی

ہیں سر جھکے ہوئے دربار بھی لگا ہوا ہے

سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے

سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

گزر جائے گی ساری رات اس میں

مرا قصہ کہانی سے بڑا ہے

کتاب 1

تحیرعشق

 

2009

 

تصویری شاعری 3

جو بجھ گئے تھے چراغ پھر سے جلا رہا ہے یہ کون دل کے کواڑ پھر کھٹکھٹا رہا ہے مہیب قحط_الرجال میں بھی خیال تیرا نئے مناظر نئے شگوفے کھلا رہا ہے وہ گیت جس میں تری کہانی سمٹ گئی تھی اسے نئی طرز میں کوئی گنگنا رہا ہے میں وسعتوں سے بچھڑ کے تنہا نہ جی سکوں_گا مجھے نہ روکو مجھے سمندر بلا رہا ہے وہ جس کے دم سے میں اس کی یادوں سے منسلک ہوں اسے یہ کہنا وہ گھاؤ بھی بھرتا جا رہا ہے

 

مزید دیکھیے

"کراچی" کے مزید شعرا

  • ذیشان ساحل ذیشان ساحل
  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • انور شعور انور شعور
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • جمال احسانی جمال احسانی
  • ادا جعفری ادا جعفری