مثال خاک کہیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں

حمیرا راحتؔ

مثال خاک کہیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں

حمیرا راحتؔ

MORE BYحمیرا راحتؔ

    مثال خاک کہیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں

    قرار مر کے ملے گا تو مر کے دیکھتے ہیں

    سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے

    سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

    کسی کی آنکھ میں ڈھل جاتا ہے ہمارا عکس

    جب آئینے میں کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں

    ہمارے عشق کی میراث ہے بس ایک ہی خواب

    تو آؤ ہم اسے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

    سوائے خاک کے کچھ بھی نظر نہیں آتا

    زمیں پہ جب بھی ستارے اتر کے دیکھتے ہیں

    یہ حکم ہے کہ زمین فرازؔ میں لکھیں

    سو اس زمین میں ہم پاؤں دھر کے دیکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY