تنہائی پر شعر

کلاسیکی شاعری میں تنہائی

روایتی عشق کی پیدا کردہ تھی ۔ محبوب وصل سے انکار کردیتا تھا تو عاشق تنہا ہو جاتا تھا ۔ اس تنہائی میں محبوب کی یاد اس کا سہارا بنتی لیکن تنہائی کو جدید شاعروں نے جس وسیع سیاق میں برتا ہےاور اسے جدید دور کے جس بڑے عذاب کے طور دیکھا ہے اس سے شعری موضوعات میں اور اضافہ ہوا ہے ۔ تنہائی کو موضوع بنانے والے شعروں کا ہمارا یہ انتخاب ایک سطح پر جدید غزل کو سمجھنے میں بھی معاون ہوگا ۔

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

گلزار

اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہوا

خود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا

مصور سبزواری

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے

تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

فراق گورکھپوری

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے

کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

زہرا نگاہ

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

پروین شاکر

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ

ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔

امید فاضلی

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

فراق گورکھپوری

مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں

یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

جاوید صبا

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں

عمر گزری ہے اس قدر تنہا

گلزار

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک

جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

ندا فاضلی

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

اک سفینہ ہے تری یاد اگر

اک سمندر ہے مری تنہائی

احمد ندیم قاسمی

یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے

ارشد عبد الحمید

کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی

ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

فرحت احساس

مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں

مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

احمد ندیم قاسمی

دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے

یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے

فضیل جعفری

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

نامعلوم

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

احمد مشتاق

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ

اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

نامعلوم

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ

اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

اسلم کولسری

کوئی بھی گھر میں سمجھتا نہ تھا مرے دکھ سکھ

ایک اجنبی کی طرح میں خود اپنے گھر میں تھا

راجیندر منچندا بانی

کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ

کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

انور شعور

بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے

آدمی آدمی اکیلا ہے

صبا اکبرآبادی

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں

تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

عادل منصوری

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا

اختر شیرانی

شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے

اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے

نصیر ترابی

دے حوصلے کی داد کے ہم تیرے غم میں آج

بیٹھے ہیں محفلوں کو سجائے ترے بغیر

عدیل زیدی

یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی

کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا

وسیم بریلوی

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ

ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

احمد مشتاق

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

ناصر کاظمی

تم سے ملے تو خود سے زیادہ

تم کو اکیلا پایا ہم نے

عرفان صدیقی

ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے

کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

منیر نیازی

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے

جب تاروں بھری رات کا احساس ہوا ہے

نسیم شاہجہانپوری

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

علیم مسرور

ہچکیاں رات درد تنہائی

آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو

ناصر جونپوری

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست

اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں لگتے ہیں

سیماب اکبرآبادی

کوئی کیا جانے کہ ہے روز قیامت کیا چیز

دوسرا نام ہے میری شب تنہائی کا

جلیل مانک پوری

کمرے میں مزے کی روشنی ہو

اچھی سی کوئی کتاب دیکھوں

محمد علوی

ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں

اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں

فرحت احساس

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

جاوید شاہین

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

اکبر حیدرآبادی
  • موضوعات : دل
    اور 1 مزید

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی

وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

افضل خان

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا

راجیندر منچندا بانی

ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں

اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

بیخود بدایونی

وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو

دل اکیلا ہے اسے اور اکیلا نہ کرو

محمود ایاز

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

مرزا غالب

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

اپنی تصویر کے پیچھے ترا چہرا دیکھا

جمیل ملک

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

مرزا غالب