Aleem Masroor's Photo'

علیم مسرور

1926

غزل 6

اشعار 7

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے

پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی

اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا

ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا

افسانہ محبت کا پورا ہو تو کیسے ہو

کچھ ہے دل قاتل تک کچھ ہے دل بسمل تک

زمانے کو دوں کیا کہ دامن میں میرے

فقط چند آنسو ہیں وہ بھی کسی کے

کتاب 1

بہت دیر کر دی

 

1972