گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے

علیم مسرور

گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے

علیم مسرور

MORE BYعلیم مسرور

    گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے

    ڈوبے گا اگر یہ سورج بھی تو چاند ستارے نکلیں گے

    انداز زمانہ کہتا ہے پھر موج ہوا رخ بدلے گی

    انگاروں سے گلشن پھوٹے گا شبنم سے شرارے نکلیں گے

    فردوس نظر کے دیوانے تاریک فضا سے کیا ڈرنا

    تو شمع نظر کو تیز تو کر ظلمت سے نظارے نکلیں گے

    انجام کشاکش ہوگا کچھ دیکھیں تو تماشا دیوانے

    یا خاک اڑے گی گردوں پر یا فرش پہ تارے نکلیں گے

    مسرورؔ کریں اہل ساحل کچھ فکر نہ ہمت والوں کی

    ڈوبیں گے سفینے جتنے بھی اک دن وہ کنارے نکلیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY