Aleem Masroor's Photo'

علیم مسرور

1926

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے

پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی

اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا

ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا

افسانہ محبت کا پورا ہو تو کیسے ہو

کچھ ہے دل قاتل تک کچھ ہے دل بسمل تک

زمانے کو دوں کیا کہ دامن میں میرے

فقط چند آنسو ہیں وہ بھی کسی کے

نکلے تری محفل سے تو ساتھ نہ تھا کوئی

شاید مری رسوائی کچھ دور چلی ہوگی

انجام کشاکش ہوگا کچھ دیکھیں تو تماشا دیوانے

یا خاک اڑے گی گردوں پر یا فرش پہ تارے نکلیں گے