Akbar Hyderabadi's Photo'

اکبر حیدرآبادی

1925 | لندن, برطانیہ

غزل 22

اشعار 21

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی

جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے

لبوں پر تبسم تو آنکھوں میں آنسو تھی دھوپ ایک پل میں تو اک پل میں بارش

ہمیں یاد ہے باتوں باتوں میں ان کا ہنسانا رلانا رلانا ہنسانا

  • شیئر کیجیے

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی

خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

رباعی 11

کتاب 4

آوازوں کا شہر

 

1988

خط رہ گزر

 

1971

نمو کی آگ

 

1981

قرض ماہ و سال کے

 

2000

 

تصویری شاعری 2

رت بدلی تو زمیں کے چہرے کا غازہ بھی بدلا رنگ مگر خود آسمان نے بدلے کیسے کیسے

 

آڈیو 5

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

بس اک تسلسل_تکرار_قرب_و_دوری تھا

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے_گا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

"لندن" کے مزید شعرا

  • ساقی فاروقی ساقی فاروقی
  • بخش لائلپوری بخش لائلپوری
  • جوہر زاہری جوہر زاہری
  • ہلال فرید ہلال فرید
  • فرخندہ رضوی فرخندہ رضوی
  • عبدالحفیظ ساحل قادری عبدالحفیظ ساحل قادری
  • جامی ردولوی جامی ردولوی
  • شبانہ یوسف شبانہ یوسف
  • خالد حسن قادری خالد حسن قادری
  • راغب دہلوی راغب دہلوی