دشت عدم کا سناٹا

اکبر حیدرآبادی

دشت عدم کا سناٹا

اکبر حیدرآبادی

MORE BY اکبر حیدرآبادی

    کیا کیا منظر دیکھ رہی ہیں آنکھیں میری

    کب سے ان اجلے شیشوں پر

    سائے لرزاں ہیں

    کچھ دھندلائے منظر ارمانوں کی جادو نگری سے

    سینے کی تاریکی سے

    جگنو کی مانند جھلکتے رہتے ہیں رنگ بدلتے رہتے ہیں

    بند اگر ہو جائیں یہ آنکھیں

    سارے منظر

    سارے پس منظر

    بے الفاظ بیاں کی صورت

    اک کورے کاغذ میں ڈھل کر

    (یکسر روپ بدل کر)

    ٹھہری ٹھہری آنکھوں کی تنہائی میں کھو جائیں گے

    دشت عدم کا سناٹا ہو جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY