سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

اکبر حیدرآبادی

سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

اکبر حیدرآبادی

MORE BYاکبر حیدرآبادی

    سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    جیتے جی ہی مر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی

    خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    بجھے دلوں کو روشن کرنے سچ کو زندہ رکھنے

    جان سے اپنی گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    عقل و خرد کے بل بوتے پر سب کو حیراں کر کے

    کام انوکھے کر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    ہو بے لوث محبت جن کی غنی ہوں جن کے دل

    دامن سب کے بھر جاتے ہیں ایسے ایسے لوگ

    مأخذ :
    • کتاب : Firdaus-e-Khayal (Poetry) (Pg. 49)
    • Author : Akbar Hyderabadi
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY