سچا دیا

MORE BY اکبر حیدرآبادی

    اپنی پچھلی سالگرہ پر میں یہ سوچ رہا تھا

    کتنے دیے جلاؤں میں؟

    کتنے دیے بجھاؤں میں؟

    میرے اندر دیوؤں کا ایسا کب کوئی ہنگامہ تھا؟

    میں تو سر سے پانو تلک خود ایک دیے کا سایہ تھا

    عمر کی گنتی کے وہ دیے سب

    جھوٹے تھے

    بے معنی تھے

    ایک دیا ہی سچا تھا

    اور وہ میری روح کے اندر جلتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY