Saba Akbarabadi's Photo'

صبا اکبرآبادی

1908 - 1991 | کراچی, پاکستان

غزل 25

اشعار 34

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک

رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

  • شیئر کیجیے

اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیں

چھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم

  • شیئر کیجیے

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی

بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

  • شیئر کیجیے

کتاب 9

چراغ بہار

 

1983

دست دعا

 

2003

ہم کلام

فارسی رباعیات غالب کا ترجمہ

1986

خونناب

 

2004

میرے حصے کی روشنی

 

2007

قرطاس الم

 

1996

قرطاس الم

صبا اکبرآبادی کے مرثیے

1996

ثبات

 

1991

آزاد،آگرہ

مارچ: شمارہ نمبر-005

1929

 

تصویری شاعری 7

سمجھے_گا آدمی کو وہاں کون آدمی بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

اک روز چھین لے_گی ہمیں سے زمیں ہمیں چھینیں_گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم

یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں کام دنیا کے بہ_دستور کیے جاتے ہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

 

"کراچی" کے مزید شعرا

  • ذیشان ساحل ذیشان ساحل
  • پروین شاکر پروین شاکر
  • انور شعور انور شعور
  • محشر بدایونی محشر بدایونی
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • جمال احسانی جمال احسانی
  • ادا جعفری ادا جعفری