اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک

صبا اکبرآبادی

اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک

صبا اکبرآبادی

MORE BYصبا اکبرآبادی

    اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک

    مقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تک

    تڑپنے پر ہمارے آپ روکیں گے ہنسی کب تک

    یہ ماتھے کی شکن کب تک یہ ابرو کی کجی کب تک

    کرن پھوٹی افق پر آفتاب صبح محشر کی

    سنائے جاؤ اپنی داستان زندگی کب تک

    دیار عشق میں اک قلب سوزاں چھوڑ آئے تھے

    جلائی تھی جو ہم نے شمع رستے میں جلی کب تک

    جو تم پردہ اٹھا دیتے تو آنکھیں بند ہو جاتیں

    تجلی سامنے آتی تو دنیا دیکھتی کب تک

    تہ گرداب کی بھی فکر کر اے ڈوبنے والے

    نظر آتی رہے گی ساحلوں کی روشنی کب تک

    کبھی تو زندگی خود بھی علاج زندگی کرتی

    اجل کرتی رہے درمان درد زندگی کب تک

    وہ دن نزدیک ہیں جب آدمی شیطاں سے کھیلے گا

    کھلونا بن کے شیطاں کا رہے گا آدمی کب تک

    کبھی تو یہ فساد‌ ذہن کی دیوار ٹوٹے گی

    ارے آخر یہ فرق خواجگی و بندگی کب تک

    دیار عشق میں پہچاننے والے نہیں ملتے

    الٰہی میں رہوں اپنے وطن میں اجنبی کب تک

    مخاطب کر کے اپنے دل کو کہنا ہو تو کچھ کہیے

    صباؔ اس بے وفا کے آسرے پر شاعری کب تک

    مآخذ :
    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 221)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau (39 (Quarterly))
    • اشاعت : 39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY