اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

صبا اکبرآبادی

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

صبا اکبرآبادی

MORE BYصبا اکبرآبادی

    اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

    عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں

    ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے

    روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں

    میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا

    یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں

    اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے

    ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں

    دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے

    ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں

    پرسش حال کو تم آؤ گے اس وقت مجھے

    لب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں

    سیکڑوں در ہیں زمانے میں گدائی کے لئے

    آپ ہی کا در دولت ہو ضروری تو نہیں

    باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے

    بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں

    ظلم کے دور سے اکراہ دلی کافی ہے

    ایک خوں ریز بغاوت ہو ضروری تو نہیں

    ایک مصرعہ بھی جو زندہ رہے کافی ہے صباؔ

    میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Mere Hisse Ki Roshni (Pg. 215)
    • Author : Saba Akbarabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY