جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

صبا اکبرآبادی

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

صبا اکبرآبادی

MORE BYصبا اکبرآبادی

    جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

    وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے

    صبح تک ختم ہو ہی جائے گا

    زندگی رات بھر کا قصہ ہے

    دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ

    گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے

    کوئی تلوار کیا بتائے گی

    دوش کا اور سر کا قصہ ہے

    ہوش آ جائے تو سناؤں گا

    چشم دیوانہ گر کا قصہ ہے

    چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی

    صرف سمت سفر کا قصہ ہے

    جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا

    زندگی عمر بھر کا قصہ ہے

    شام کو ہم سنائیں گے تم کو

    شب غم کی سحر کا قصہ ہے

    تیرے نقش قدم کی بات نہیں

    صرف شمس و قمر کا قصہ ہے

    دامن خشک لاؤ پھر سننا

    یہ مری چشم تر کا قصہ ہے

    چند تنکے نہ تھے نشیمن کے

    باغ و شاخ و شجر کا قصہ ہے

    حلق میں چبھ رہے ہیں کانٹے سے

    لب پہ گل ہائے تر کا قصہ ہے

    میری بربادیوں کا حال نہ پوچھ

    ایک نیچی نظر کا قصہ ہے

    اسی بیداد گر سے کہہ دے صباؔ

    اسی بیداد گر کا قصہ ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Mere Hisse Ki Roshni (Pg. 205)
    • Author : Saba Akbarabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY