Mahshar Badayuni's Photo'

محشر بدایونی

1922 - 1994 | کراچی, پاکستان

محشر بدایونی

غزل 58

نظم 6

اشعار 7

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی

جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

  • شیئر کیجیے

جس کے لئے بچہ رویا تھا اور پونچھے تھے آنسو بابا نے

وہ بچہ اب بھی زندہ ہے وہ مہنگا کھلونا ٹوٹ گیا

ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں

اس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی

میں اتنی روشنی پھیلا چکا ہوں

کہ بجھ بھی جاؤں تو اب غم نہیں ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 4

 

تصویری شاعری 1

 

ویڈیو 12

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

محشر بدایونی

محشر بدایونی

Mahshar Badayuni at a mushaira

محشر بدایونی

Reading his poetry at a mushaira

محشر بدایونی

مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی

محشر بدایونی

دیوں کو خود بجھا کر رکھ دیا ہے

محشر بدایونی

لب_طلب بھی نہ پھر مائل_سوال ہوا

محشر بدایونی

لب_طلب بھی نہ پھر مائل_سوال ہوا

محشر بدایونی

وہ حال ہے کہ تلاش_نجات کی جائے

محشر بدایونی

وہ حال ہے کہ تلاش_نجات کی جائے

محشر بدایونی

کرے دریا نہ پل مسمار میرے

محشر بدایونی

کرے دریا نہ پل مسمار میرے

محشر بدایونی

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے