شراب پر اشعار
اگر آپ کو بس یوں ہی
بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو
تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ
جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
-
موضوع : مے کشی
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
-
موضوعات : دنیااور 1 مزید
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
-
موضوعات : راتاور 1 مزید
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی
پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
EXPLANATION #1
یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔
شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔
شفق سوپوری
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 2 مزید
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند
مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز
یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
-
موضوعات : ابر شاعریاور 1 مزید
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی
ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں
-
موضوع : مے کشی
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح
اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے
یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
EXPLANATION #1
جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔
شفق سوپوری
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی
کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے
-
موضوع : مے کشی
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں
پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے
مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
-
موضوع : آنسو
کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ
میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا
میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
-
موضوع : آدمی
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی
وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں واعظ پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس جنت کی شراب کا تم وعدہ کرتے ہو، اس کا دنیا میں کوئی وجود نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ غالب کے نزدیک وہ شے بے معنی ہے جو حال میں میسر نہ ہو اور جس سے محفل میں دوستوں کی تواضع نہ کی جا سکے۔
-
موضوع : واعظ
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا
-
موضوع : مے کشی
مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں
اچھی پی لی خراب پی لی
جیسی پائی شراب پی لی
کسی کی بزم کے حالات نے سمجھا دیا مجھ کو
کہ جب ساقی نہیں اپنا تو مے اپنی نہ جام اپنا
-
موضوع : ساقی
شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی
توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
Interpretation:
Rekhta AI
غالب فرماتے ہیں کہ روحانیت اور تصوف کے مضامین اتنے لطیف ہوتے ہیں کہ عام زبان ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ خدا کے جلوے کی مستی کو بیان کرنے کے لیے شاعر مجبور ہے کہ وہ دنیاوی نشے یعنی 'بادہ و ساغر' کی اصطلاحات استعمال کرے، ورنہ بات بنتی نہیں۔
پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی
دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی
-
موضوع : واعظ
واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو
دوزخ میں پاؤں ہاتھ میں جام شراب ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر واعظ کی ڈانٹ کو طنز کے ساتھ پلٹ دیتا ہے کہ ایسی ’’عذاب‘‘ والی حالت تو مزے کی ہوگی۔ یہاں شراب عیش، عادت اور سرکشی کی علامت ہے—یعنی دھمکی بھی دل کو نہیں بدلتی۔ دوزخ کا ذکر دراصل خوف کے مقابلے میں خواہش کی ضد اور بے باکی دکھاتا ہے۔
اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی
عبادت کریں آج مخمور ہو کر
پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب
یہ مزا پاکباز کیا جانیں
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی نے یہاں تجربے اور پرہیزگاری کا تقابل کیا ہے: شراب کا لطف وہی سمجھ سکتا ہے جو اسے چکھتا ہو۔ پاکباز کو شاعر باہر والا سمجھتا ہے، اس لیے وہ اس مزے کی کیفیت سے ناواقف رہتا ہے۔ لہجے میں ہلکا سا طنز ہے کہ جو چیز آزمائی ہی نہ ہو، اس پر رائے دینا بے معنی ہے۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ بعض لذتیں صرف تجربے سے سمجھ آتی ہیں۔
گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ
اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے
بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگر
پی کے انسان ہوا جاتا ہے
-
موضوع : مے کشی
کھلی فضا میں اگر لڑکھڑا کے چل نہ سکیں
تو زہر پینا ہے بہتر شراب پینے سے
زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا
میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی
شراب بند ہو ساقی کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ
نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ
شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے
-
موضوعات : ساقیاور 1 مزید
جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر
رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم
-
موضوعات : ادااور 2 مزید
منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے
-
موضوع : واعظ
پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہد
کیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہے