غزل 20

اشعار 14

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

  • شیئر کیجیے

زندگی کٹ گئی مناتے ہوئے

اب ارادہ ہے روٹھ جانے کا

  • شیئر کیجیے

عزیز مجھ کو ہیں طوفان ساحلوں سے سوا

اسی لیے ہے خفا میرا ناخدا مجھ سے

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے

بن ترے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی

میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا

کتاب 1

مت سوچا کر

 

2001

 

متعلقہ شعرا

  • خوشبیر سنگھ شادؔ خوشبیر سنگھ شادؔ ہم عصر
  • سلیم کوثر سلیم کوثر ہم عصر
  • اجمل سراج اجمل سراج ہم عصر