نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

فرحت شہزاد

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

فرحت شہزاد

MORE BYفرحت شہزاد

    نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

    کوئی جز آپ کے اپنا نہیں ہے

    ہر اک رستے کا پتھر پوچھتا ہے

    تجھے کیا کچھ بھی اب دکھتا نہیں ہے

    عجب ہے روشنی تاریکیوں سی

    کہ میں ہوں اور مرا سایا نہیں ہے

    پرستش کی ہے میری دھڑکنوں نے

    تجھے میں نے فقط چاہا نہیں ہے

    میں شاید تیرے دکھ میں مر گیا ہوں

    کہ اب سینے میں کچھ دکھتا نہیں ہے

    لٹا دی موت بھی قدموں پہ تیرے

    بچا کر تجھ سے کچھ رکھا نہیں ہے

    قیامت ہے یہی ادراک جاناں

    میں اس کا ہوں کہ جو میرا نہیں ہے

    مری باتیں ہیں سب باتیں تمہاری

    مرا اپنا کوئی قصہ نہیں ہے

    تجھے محسوس بھی میں کر نہ پاؤں

    اندھیرا ہے مگر اتنا نہیں ہے

    بجز نیتوؔ کی یادیں اب جہاں میں

    کوئی شہزادؔ جی تیرا نہیں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : urdu gazal ka magribi daricha (Pg. 123)
    • Author : javaaz jaafri
    • مطبع : fazli book super market (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY