noImage

مرزا جواں بخت جہاں دار

1749

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

غزل 30

اشعار 8

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

  • شیئر کیجیے

ترے عشق سے جب سے پالے پڑے ہیں

ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے ہیں

  • شیئر کیجیے

کہیں سو کس سے جہاں دارؔ اس کی نظروں میں

رقیب کام کے ٹھہرے اور ہم ہیں ناکارے

  • شیئر کیجیے

مجھ دل میں ہے جو بت کی پرستش کی آرزو

دیکھی نہیں وہ آج تلک برہمن کے بیچ

  • شیئر کیجیے

کی دل نے دلبران جہاں کی بہت تلاش

کوئی دل ربا ملا ہے نہ دل خواہ کیا کرے

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

دیوان جہاں دار

 

1966

دیوان جہاں دار

 

1966