noImage

مرزا جواں بخت جہاں دار

1749 - 1788

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

مرزا جواں بخت جہاں دار کے اشعار

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

ترے عشق سے جب سے پالے پڑے ہیں

ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے ہیں

مجھ دل میں ہے جو بت کی پرستش کی آرزو

دیکھی نہیں وہ آج تلک برہمن کے بیچ

کہیں سو کس سے جہاں دارؔ اس کی نظروں میں

رقیب کام کے ٹھہرے اور ہم ہیں ناکارے

کی دل نے دلبران جہاں کی بہت تلاش

کوئی دل ربا ملا ہے نہ دل خواہ کیا کرے

بسان نقش قدم تیرے در سے اہل وفا

اٹھاتے سر نہیں ہرگز تباہ کے مارے

مرا خون دل یوں بہا دشت میں

کہ جنگل میں لوہو کے تھالے پڑے

سر رشتہ کفر و دیں کا حقیقت میں ایک ہے

جو تار سبحہ ہے سو ہے زنار دیکھنا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے