ADVERTISEMENT

اشعار پرشام

شام کا تخلیقی استعمال

بہت متنوع ہے ۔ اس کا صحیح اندازہ آپ ہمارے اس انتخاب سے لگا سکیں گے کہ جس شام کو ہم اپنی عام زندگی میں صرف دن کے ایک آخری حصے کے طور دیکھتے ہیں وہ کس طور پر معنی اور تصورات کی کثرت کو جنم دیتی ہے ۔ یہ دن کے عروج کے بعد زوال کا استعارہ بھی ہے اور اس کے برعکس سکون ،عافیت اور سلامتی کی علامت بھی ۔ اور بھی کئی دلچسپ پہلو اس سے وابستہ ہیں ۔ یہ اشعار پڑھئے ۔

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

قیصر الجعفری

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

وسیم بریلوی

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

پروین شاکر
ADVERTISEMENT

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

شعیب بن عزیز

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے

آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

شکیل بدایونی

بس ایک شام کا ہر شام انتظار رہا

مگر وہ شام کسی شام بھی نہیں آئی

اجمل سراج

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد

شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

عرفان صدیقی
ADVERTISEMENT

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

بشیر بدر

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر

کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

بشیر بدر

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے

یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی
ADVERTISEMENT

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے

یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

مظہر امام

شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے

سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا

شہریار

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا

ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں

بشیر بدر

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

ناصر کاظمی
ADVERTISEMENT

اب تو چپ چاپ شام آتی ہے

پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے

محمد علوی

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا

زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا

صابر ظفر

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

بشیر بدر

کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی

شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی

شاد عظیم آبادی
ADVERTISEMENT

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام

گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لئے

قمر جلالوی

ڈھلے گی شام جہاں کچھ نظر نہ آئے گا

پھر اس کے بعد بہت یاد گھر کی آئے گی

راجیندر منچندا بانی

شامیں کسی کو مانگتی ہیں آج بھی فراقؔ

گو زندگی میں یوں مجھے کوئی کمی نہیں

فراق گورکھپوری
ADVERTISEMENT

ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے

اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

اقبال عظیم

شام سے ان کے تصور کا نشہ تھا اتنا

نیند آئی ہے تو آنکھوں نے برا مانا ہے

نامعلوم

ہم دنیا سے جب تنگ آیا کرتے ہیں

اپنے ساتھ اک شام منایا کرتے ہیں

تیمور حسن

عصر کے وقت میرے پاس نہ بیٹھ

مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے

علی زریون
ADVERTISEMENT

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

احمد فراز

شام ڈھلے یہ سوچ کے بیٹھے ہم اپنی تصویر کے پاس

ساری غزلیں بیٹھی ہوں گی اپنے اپنے میر کے پاس

ساغرؔ اعظمی

ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے

یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

احمد مشتاق
ADVERTISEMENT

دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفقؔ

شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے

فاروق شفق

ہوتے ہی شام جلنے لگا یاد کا الاؤ

آنسو سنانے دکھ کی کہانی نکل پڑے

اقبال ساجد

گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے

وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے

ذیشان ساحل

جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گزرتی ہے

ساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانی

احمد مشتاق

ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں

ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

افتخار عارف

کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے

اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں

اختر ہوشیارپوری

اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو

محبوبؔ خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے

محبوب خزاں

بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے

ہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں

شکیب جلالی

شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد

کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

پروین شاکر

شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی روٹھ گیا

اور شب اس کو منانے میں گزر جاتی ہے

اشفاق ناصر

سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے

لوگ اپنے گھروں کو چلنے لگے

امجد اسلام امجد

آخری بار میں کب اس سے ملا یاد نہیں

بس یہی یاد ہے اک شام بہت بھاری تھی

حماد نیازی

شام ہی سے برس رہی ہے رات

رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا

رسا چغتائی

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس

چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

شکیل بدایونی

شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل

سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو

شہزاد احمد

کون سمجھے ہم پہ کیا گزری ہے نقشؔ

دل لرز اٹھتا ہے ذکر شام سے

مہیش چندر نقش

شام کی شام سے سرگوشی سنی تھی اک بار

بس تبھی سے تجھے امکان میں رکھا ہوا ہے

ناہید ورک

مجھے ہر شام اک سنسان جنگل کھینچ لیتا ہے

اور اس کے بعد پھر خونی بلائیں رقص کرتی ہیں

شمیم روش