Iqbal Azeem's Photo'

اقبال عظیم

1913 - 2000 | کراچی, پاکستان

غزل 25

اشعار 21

جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر

سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے

  • شیئر کیجیے

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب

خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

  • شیئر کیجیے

ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے

اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر

اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں

  • شیئر کیجیے

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

کتاب 2

مشرقی بنگال میں اردو

 

1954

مضراب و رباب

 

 

 

تصویری شاعری 1

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ_گے خواب ہو جاؤ_گے افسانوں میں ڈھل جاؤ_گے اب تو چہروں کے خد_و_خال بھی پہلے سے نہیں کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ_گے اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا سرخ شعلوں سے جو کھیلو_گے تو جل جاؤ_گے دے رہے ہیں تمہیں تو لوگ رفاقت کا فریب ان کی تاریخ پڑھو_گے تو دہل جاؤ_گے اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو سنگ_مرمر پہ چلو_گے تو پھسل جاؤ_گے خواب_گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ_گے تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو بھیڑ میں سست چلو_گے تو کچل جاؤ_گے ہم_سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو ٹھوکریں کھاؤ_گے تو خود ہی سنبھل جاؤ_گے تم ہو اک زندۂ_جاوید روایت کے چراغ تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ_گے صبح_صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ_گے

 

ویڈیو 30

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

اقبال عظیم

اقبال عظیم

اقبال عظیم

اقبال عظیم

اقبال عظیم

Reciting own poetry

اقبال عظیم

آپ میری طبیعت سے واقف نہیں مجھ کو بے_جا تکلف کی عادت نہیں

اقبال عظیم

آنکھوں سے نور دل سے خوشی چھین لی گئی

اقبال عظیم

اپنے ماضی سے جو ورثے میں ملے ہیں ہم کو (ردیف .. ے)

اقبال عظیم

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ_گے

اقبال عظیم

اللہ رے یادوں کی یہ انجمن_آرائی

اقبال عظیم

بالاہتمام ظلم کی تجدید کی گئی

اقبال عظیم

زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

اقبال عظیم

سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں

اقبال عظیم

ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس_وفا چاہئے

اقبال عظیم

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

اقبال عظیم

نقش ماضی کے جو باقی ہیں مٹا مت دینا

اقبال عظیم

کچھ ایسے زخم بھی در_پردہ ہم نے کھائے ہیں

اقبال عظیم

آڈیو 5

سب سمجھتے ہیں کہ ہم کس کارواں کے لوگ ہیں

ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس_وفا چاہئے

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • وحشتؔ رضا علی کلکتوی وحشتؔ رضا علی کلکتوی استاد

"کراچی" کے مزید شعرا

  • جون ایلیا جون ایلیا
  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • سجاد باقر رضوی سجاد باقر رضوی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • قمر جلالوی قمر جلالوی
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • جمال احسانی جمال احسانی