Iqbal Azeem's Photo'

اقبال عظیم

1913 - 2000 | کراچی, پاکستان

3.29K
Favorite

باعتبار

جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر

سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب

خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے

اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

بارہا ان سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں میں

اور پھر یہ بات قصداً بھول بھی جاتا ہوں میں

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر

اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں

اب ہم بھی سوچتے ہیں کہ بازار گرم ہے

اپنا ضمیر بیچ کے دنیا خرید لیں

زمانہ دیکھا ہے ہم نے ہماری قدر کرو

ہم اپنی آنکھوں میں دنیا بسائے بیٹھے ہیں

جب گھر کی آگ بجھی تو کچھ سامان بچا تھا جلنے سے

سو وہ بھی ان کے ہاتھ لگا جو آگ بجھانے آئے تھے

جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا

فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا

کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں

جو ہم نے اپنے رفیقوں سے بھی چھپائے ہیں

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں

میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں

اس جشن چراغاں سے تو بہتر تھے اندھیرے

ان جھوٹے چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے

سفر پہ نکلے ہیں ہم پورے اہتمام کے ساتھ

ہم اپنے گھر سے کفن ساتھ لے کے آئے ہیں

جس میں نہ کوئی رنگ نہ آہنگ نہ خوشبو

تم ایسے گلستاں کو جلا کیوں نہیں دیتے

ہاتھ پھیلاؤں میں عیسیٰ نفسوں کے آگے

درد پہلو میں مرے ہے مگر اتنا بھی نہیں

بے نیازانہ گزر جائے گزرنے والا

میرے پندار کو اب شوق تماشا بھی نہیں

اے اہل وفا داد جفا کیوں نہیں دیتے

سوئے ہوئے زخموں کو جگا کیوں نہیں دیتے

مرے جرم وفا کا فیصلہ کچھ اس طرح ہوگا

سزا کا حکم فوری اور سماعت سرسری ہوگی

پرسش حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو

پرسش حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں