اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

اقبال عظیم

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

    خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

    اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں

    کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے

    اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا

    سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے

    دے رہے ہیں تمہیں تو لوگ رفاقت کا فریب

    ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے

    اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو

    سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو

    دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے

    تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو

    بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے

    ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو

    ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے

    تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ

    تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے

    صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں

    تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY