ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

اقبال عظیم

ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

    وہ خوش نصیب ہیں جو تری رہ گزر میں ہیں

    تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگی

    کتنے پیام اک نگہ مختصر میں ہیں

    ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجود

    دھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں

    للہ اس خلوص سے پرسش نہ کیجیئے

    طوفان کب سے بند مری چشم تر میں ہیں

    منزل تو خوش نصیبوں میں تقسیم ہو چکی

    کچھ خوش خیال لوگ ابھی تک سفر میں ہیں

    محفل میں ان کی سمت نگاہیں نہ اٹھ سکیں

    ہم بالخصوص اہل نظر کی نظر میں ہیں

    یہ کیسے راہرو تھے کہ ہر نقش پا کے ساتھ

    سجدوں کے کچھ نشان بھی اس رہ گزر میں ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY