کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں

اقبال عظیم

کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں

    جو ہم نے اپنے رفیقوں سے بھی چھپائے ہیں

    یہ کیا بتائیں کہ ہم کیا گنوا کے آئے ہیں

    بس اک ضمیر بہ مشکل بچا کے لائے ہیں

    اب آ گئے ہیں تو پیاسے نہ جائیں گے ساقی

    کچھ آج سوچ کے ہم میکدے میں آئے ہیں

    کوئی ہواؤں سے کہہ دو ادھر کا رخ نہ کرے

    چراغ ہم نے سمجھ بوجھ کر جلائے ہیں

    جہاں کہیں بھی صدا دی یہی جواب ملا

    یہ کون لوگ ہیں پوچھو کہاں سے آئے ہیں

    چمن میں دیکھیے اب کے ہوا کدھر کی چلے

    خزاں نصیبوں نے پھر آشیاں بنائے ہیں

    سفر پہ نکلے ہیں ہم پورے اہتمام کے ساتھ

    ہم اپنے گھر سے کفن ساتھ لے کے آئے ہیں

    انہیں پرائے چراغوں سے کیا غرض اقبالؔ

    جو اپنے گھر کے دیئے خود بجھا کے آئے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    RECITATIONS

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY