وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا

اقبال عظیم

وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا

    نہ جانے کیوں وہ مجھے پھر بھی با وفا سا لگا

    مزاج اس نے نہ پوچھا مگر سلام لیا

    یہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ بھلا سا لگا

    غبار وقت نے کچھ یوں بدل دیئے چہرے

    خود اپنا شہر بھی مجھ کو نیا نیا سا لگا

    گھٹی گھٹی سی لگی رات انجمن کی فضا

    چراغ جو بھی جلا کچھ بجھا بجھا سا لگا

    جو ہم پہ گزری ہے شاید سبھی پہ گزری ہو

    فسانہ جو بھی سنا کچھ سنا سنا سا لگا

    مجال عرض تمنا کرے کوئی کیسے

    جو لفظ ہونٹوں پہ آیا ڈرا ڈرا سا لگا

    میں گھر سے چل کے اکیلا یہاں تک آیا ہوں

    جو ہم سفر بھی ملا کچھ تھکا تھکا سا لگا

    اسی کا نام ہے شائستگی و پاس وفا

    پلک تک آ کے جو آنسو تھما تھما سا لگا

    کچھ اس خلوص سے اس نے کہا مجھے اقبالؔ

    خود اپنا نام بھی مجھ کو بڑا بڑا سا لگا

    RECITATIONS

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY