فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

اقبال عظیم

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

    خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

    ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے

    ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

    جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

    سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

    نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا

    نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

    اے مدینے کے زائر خدا کے لیے داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا

    بات بڑھ جائے گی دل تڑپ جائے گا میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

    ان کی چشم کرم کو ہے اس کی خبر کس مسافر کو ہے کتنا شوق سفر

    ہم کو اقبالؔ جب بھی اجازت ملی ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے