بے وفائی پر اشعار
شاعری میں معشوق اپنی
جن صفات کے ساتھ بن کر تیار ہوتا ہے ان میں بے وفائی اس کی بنیادی اور بہت مستحکم صفت ہے۔ اگر معشوق ہے تو وہ بے وفا بھی ہے اور ظلم وستم کرنے والا بھی ۔ عاشق اس بے وفائی کے دکھ جھیلتا ہے، گلے شکوے کرتا ہے اور بالآخر یہی سب اس کے عاشق ہونے کی پہچان ہو جاتی ہے۔ شاعروں نے بےوفائی کے اس قصے کو تسلسل اور بہت دلچسپی کے ساتھ لکھا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس میں چھپی ہوئی اپنی کہانیوں کی تلاش کیجئے۔
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Rekhta
AI Explanation
اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے — یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
تم نے ہمیں کبھی یاد نہیں کیا، بھولے سے بھی نہیں۔
ہم نے تمہاری یاد میں باقی ہر چیز بھلا دی۔
اس شعر میں محبوب کی بے اعتنائی اور عاشق کی انتہا درجے کی وابستگی کا تضاد ہے۔ “بھول کر یاد کرنا” محبوب کے لیے بھی ممکن نہیں، جبکہ عاشق کی یاد اتنی غالب ہے کہ وہ زندگی کی دوسری سب باتیں مٹا دیتی ہے۔ جذبے کی یک طرفگی ہی اس کا درد اور حسن ہے۔
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
خیر تم نے تو بے وفائی کی
محبت میں مجھ سے کچھ خاص نبھ نہ سکا۔
چلو، تم نے تو کم از کم بے وفائی کر ہی دی۔
شاعر اپنی بے بسی اور کمی کا اعتراف کرتا ہے کہ محبت کا حق ادا نہ ہو سکا۔ پھر ‘خیر’ کے طنزیہ لہجے میں محبوب پر وار کرتا ہے کہ تم نے تو ایک کام پورا کر دکھایا—بے وفائی۔ دونوں مصرعوں کا تضاد دکھ، شکوہ اور تلخ مزاح کو ایک ساتھ نمایاں کرتا ہے۔
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا
قہر ہوتا جو باوفا ہوتا
تمہاری بے وفائی پر بھی میں اپنی جان نثار کیے بیٹھا ہوں۔
اگر تم وفادار ہوتے تو یہ مجھ پر قیامت بن جاتا۔
اس شعر میں عاشق ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ اسے محبوب کی بے وفائی بھی عزیز ہے، کیونکہ وہ اسی دکھ میں جینا سیکھ چکا ہے۔ اگر محبوب باوفا ہوتا تو قربت اور امید کی شدت ایسی ہوتی کہ برداشت نہ ہوتی۔ یوں محبت کی انتہا اور اپنے آپ کو مٹانے والی وابستگی نمایاں ہو جاتی ہے۔
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
-
موضوعات : جدائیاور 2 مزید
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے
بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
ہم اسے یاد بہت آئیں گے
جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
-
موضوعات : فریباور 1 مزید
میرے علاوہ اسے خود سے بھی محبت ہے
اور ایسا کرنے سے وہ بے وفا نہیں ہوتی
اڑ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں
زمانے میں وفا اس طرح غائب ہو گئی جیسے اُڑ کر چلی گئی ہو۔
یوں لگتا ہے کہ وفا کبھی کسی کے دل میں تھی ہی نہیں۔
شعر میں زمانے کی مجموعی بےوفائی پر شکوہ ہے۔ “اڑ گئی” کا استعارہ وفا کو کسی نازک پرندے کی طرح دکھاتا ہے جو پکڑ میں نہیں آتا۔ شاعر کی کیفیت ایسی تلخ مایوسی ہے کہ وہ موجودہ کمی کو بھی ماضی کی نفی بنا دیتا ہے۔ مرکزی جذبہ بدگمانی اور شکستہ دلی ہے۔
-
موضوع : وفا
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی
-
موضوع : وفا
میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا
-
موضوعات : فریباور 1 مزید
تم کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
تم کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
-
موضوع : وفا
جو ملا اس نے بے وفائی کی
کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا
یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا
مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا
گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا
لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا
ہم نے تو خود کو بھی مٹا ڈالا
تم نے تو صرف بے وفائی کی
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا
اگر تم چلے بھی جاؤ تو مہر و وفا دکھا کر کیا حاصل ہوگا؟
میں نے بار بار آزما کر اس کا انجام دیکھ لیا ہے۔
اس شعر میں عاشق محبوب کے دعوائے مہر و وفا کو بے اثر قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ محبت اور وفاداری اب کوئی معنی نہیں رکھتیں، کیونکہ ان کو کئی بار پرکھ کر نتیجہ سامنے آچکا ہے۔ لہجہ تھکا ہوا، شکوہ آمیز اور فیصلہ کن ہے۔ بارہا آزمانا ایک طرح کی دلیل ہے کہ اب امید کی گنجائش نہیں رہی۔
-
موضوع : وفا
وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا
اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی
امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے
جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح
-
موضوع : وفا
اب زمانہ ہے بے وفائی کا
سیکھ لیں ہم بھی یہ ہنر شاید
قائم ہے اب بھی میری وفاؤں کا سلسلہ
اک سلسلہ ہے ان کی جفاؤں کا سلسلہ
-
موضوع : جفا
اس بے وفا سے کر کے وفا مر مٹا رضاؔ
اک قصۂ طویل کا یہ اختصار ہے
-
موضوع : وفا
تم جفا پر بھی تو نہیں قائم
ہم وفا عمر بھر کریں کیوں کر
ادھوری وفاؤں سے امید رکھنا
ہمارے بھی دل کی عجب سادگی ہے
نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرت
نہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی
بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا
غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے
-
موضوع : وفا
بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا
گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں
-
موضوع : بھروسہ
غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں
یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے
-
موضوع : وفا
یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو
یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں
-
موضوع : وفا
میں خاندان کی پابندیوں سے واقف تھی
خدا کا شکر ہے اس شخص نے وفا نہیں کی
توفیق جن کو معصیت عشق کی نہیں
اے رحمت تمام گنہ گار وہ بھی ہیں
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
کسی فرد محبت سے بھلا امید کیا رکھنا
محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہوگی
پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے
ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت
-
موضوعات : پرندہاور 2 مزید
یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت
تقدیر میں ہے حسرت و حرماں کوئی دن اور
-
موضوعات : قسمتاور 1 مزید
بے وفا سے عاشقی کا یہ صلہ
دل غموں کا کارخانہ ہو گیا
-
موضوع : دل
بہت سے غم تو دیے ضبطؔ ایسے لوگوں نے
کہ جن سے کوئی توقع نہ تھی وفا کے سوا
-
موضوعات : غماور 1 مزید
آئے ہیں غیر کو لے کر ہمراہ
ایسے آنے سے نہ آنا اچھا
-
موضوع : رقیب
دل لیا اور بے وفائی کی
داد دیتا ہوں دل ربائی کی
-
موضوع : دل