noImage

سہیل احمد زیدی

1930 - 2007 | الہٰ آباد, ہندوستان

سہیل احمد زیدی

غزل 21

اشعار 8

ہر صبح اپنے گھر میں اسی وقت جاگنا

آزاد لوگ بھی تو گرفتار سے رہے

دیکھو تو ہر اک شخص کے ہاتھوں میں ہیں پتھر

پوچھو تو کہیں شہر بنانے کے لیے ہے

پیڑ اونچا ہے مگر زیر زمیں کتنا ہے

لب پہ ہے نام خدا دل میں یقیں کتنا ہے

ہم ہار تو جاتے ہی کہ دشمن کے ہمارے

سو پیر تھے سو ہاتھ تھے اک سر ہی نہیں تھا

دو پاؤں ہیں جو ہار کے رک جاتے ہیں

اک سر ہے جو دیوار سے ٹکراتا ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 6

بولتی کنکریاں

 

1982

نگاڑے حضور

 

1993

صاحبو!

 

1986

صنوبروں کا شہر

 

1964

صنوبروں کا شہر

 

1964

وادیٔ طویٰ

 

1998

 

آڈیو 3

پیڑ اونچا ہے مگر زیر_زمیں کتنا ہے

فقیہ_شہر سے رشتہ بنائے رہتا ہوں

نواح_جاں میں کہیں ابتری سی لگتی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

 

"الہٰ آباد" کے مزید شعرا

  • فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری
  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا
  • افضل الہ آبادی افضل الہ آبادی
  • شبنم نقوی شبنم نقوی
  • خواجہ جاوید اختر خواجہ جاوید اختر
  • ظفر انصاری ظفر ظفر انصاری ظفر
  • عبد الحمید عبد الحمید
  • اعظم کریوی اعظم کریوی
  • ساحل احمد ساحل احمد
  • اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی