noImage

سہیل احمد زیدی

1930 - 2007 | الہٰ آباد, ہندوستان

سہیل احمد زیدی کے اشعار

ہر صبح اپنے گھر میں اسی وقت جاگنا

آزاد لوگ بھی تو گرفتار سے رہے

دیکھو تو ہر اک شخص کے ہاتھوں میں ہیں پتھر

پوچھو تو کہیں شہر بنانے کے لیے ہے

پیڑ اونچا ہے مگر زیر زمیں کتنا ہے

لب پہ ہے نام خدا دل میں یقیں کتنا ہے

ہم ہار تو جاتے ہی کہ دشمن کے ہمارے

سو پیر تھے سو ہاتھ تھے اک سر ہی نہیں تھا

دو پاؤں ہیں جو ہار کے رک جاتے ہیں

اک سر ہے جو دیوار سے ٹکراتا ہے

اک موج فنا تھی جو روکے نہ رکی آخر

دیوار بہت کھینچی دربان بہت رکھا

کبھی تو لگتا ہے گمراہ کر گئی مجھ کو

سخن وری کبھی پیغمبری سی لگتی ہے

ہم نے تو موند لیں آنکھیں ہی تری دید کے بعد

بوالہوس جانتے ہیں کوئی حسیں کتنا ہے