Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سہیل احمد زیدی

1928 - 2007 | الہٰ آباد, انڈیا

سہیل احمد زیدی کے اشعار

ہر صبح اپنے گھر میں اسی وقت جاگنا

آزاد لوگ بھی تو گرفتار سے رہے

پیڑ اونچا ہے مگر زیر زمیں کتنا ہے

لب پہ ہے نام خدا دل میں یقیں کتنا ہے

دیکھو تو ہر اک شخص کے ہاتھوں میں ہیں پتھر

پوچھو تو کہیں شہر بنانے کے لیے ہے

ہم ہار تو جاتے ہی کہ دشمن کے ہمارے

سو پیر تھے سو ہاتھ تھے اک سر ہی نہیں تھا

اک موج فنا تھی جو روکے نہ رکی آخر

دیوار بہت کھینچی دربان بہت رکھا

دو پاؤں ہیں جو ہار کے رک جاتے ہیں

اک سر ہے جو دیوار سے ٹکراتا ہے

ہم نے تو موند لیں آنکھیں ہی تری دید کے بعد

بوالہوس جانتے ہیں کوئی حسیں کتنا ہے

کبھی تو لگتا ہے گمراہ کر گئی مجھ کو

سخن وری کبھی پیغمبری سی لگتی ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے