حوصلہ پر اشعار

شاعری کاعلاقہ بہت وسیع

ہے وہ نہ صرف عشق وعاشقی کابیان ہے بلکہ زندگی کی اوربہت سی صورتیں اس کے دائرے میں آتی ہیں ۔ بعض اوقات زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں کوئی ایک شعر ہی ایسا آجاتا ہے جو جینے کا حوصلہ دے جاتا ہے اور ایک داخلی قوت عطا کرتا ہے ۔ کچھ ایسےشعرہی ہم یہاں ہیش کررہے ہیں ۔

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

علامہ اقبال

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

ساحر لدھیانوی

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

جگر مراد آبادی

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل عظیم آبادی

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

علامہ اقبال

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

اکبر الہ آبادی

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

محشر بدایونی

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

جگر مراد آبادی

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

بسمل عظیم آبادی

میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی

ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے

دشینت کمار

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

مجروح سلطانپوری

ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن

طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے

آل احمد سرور

ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو

ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

اعجاز رحمانی

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں

غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

ماہر القادری

ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے

جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے

شکیل اعظمی

لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

امیر قزلباش

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

امیر مینائی

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

عبد الحمید عدم

میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر

اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا

عادل منصوری

واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے

وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

فہیم جوگاپوری

میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں

تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا

ادا جعفری

جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

اسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا

عابد ادیب

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

رضا ہمدانی

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا

شہریار

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ؔمرزا عظیم بیگ عظیم

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

منظور ہاشمی

وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو

حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں

محفوظ الرحمان عادل

صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

الطاف حسین حالی

جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر

یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی

جمیلؔ مظہری

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

علامہ اقبال

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

قیصر الجعفری

اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے

مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے

نفس انبالوی

اتنے مایوس تو حالات نہیں

لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں

جاں نثاراختر

انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا

اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

اختر شیرانی

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا

مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

یگانہ چنگیزی

موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ

گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

فانی بدایونی

دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا

اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

علی سردار جعفری

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

نور قریشی

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

سید صادق حسین

لذت غم تو بخش دی اس نے

حوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے

عبد الحمید عدم

جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا

وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

علی جواد زیدی

بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا

وہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے

اصغر گونڈوی

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے