Nafas Ambalvi's Photo'

نفس انبالوی

1961 | انبالہ, ہندوستان

غزل 21

اشعار 24

اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے

مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے

  • شیئر کیجیے

ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینا

لگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیں

  • شیئر کیجیے

اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا

بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں

  • شیئر کیجیے

سنا ہے وہ بھی مرے قتل میں ملوث ہے

وہ بے وفا ہے مگر اتنا بے وفا بھی نہیں

انکار کر رہا ہوں تو قیمت بلند ہے

بکنے پہ آ گیا تو گرا دیں گے دام لوگ

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 1

اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے

 

"انبالہ" کے مزید شعرا

  • مہندر پرتاپ چاند مہندر پرتاپ چاند
  • صدا انبالوی صدا انبالوی
  • گوپال کرشن شفق گوپال کرشن شفق
  • رمیش تنہا رمیش تنہا