ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیں

نفس انبالوی

ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیں

نفس انبالوی

MORE BYنفس انبالوی

    ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیں

    تمہارے ساتھ بھی کچھ دور چل کے دیکھتے ہیں

    ادھر چراغ بجھانے کو ہے ہوا بیتاب

    ادھر یے ضد کہ ہواؤں میں جل کے دیکھتے ہیں

    چلو پھر آج زمینوں میں جذب ہو جائیں

    چھلک کے آنکھ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں

    یے عشق کوئی بلا ہے جنون ہے کیا ہے

    یہ کیسی آگ ہے پتھر پگھل کے دیکھتے ہیں

    عجیب پیاس ہے دریا سے بجھ نہیں پائی

    جو تم کہو تو سمندر نگل کے دیکھتے ہیں

    وو گر نگاہ ملا لے تو معجزہ کر دے

    اسی لیے تو ادھر ہم سنبھل کے دیکھتے ہیں

    بدل کے خود ہی ہمیں رہ گئے زمانہ میں

    چلے تھے گھر سے کہ دنیا بدل کے دیکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے