Nafas Ambalvi's Photo'

نفس انبالوی

1961 | انبالہ, ہندوستان

1.9K
Favorite

باعتبار

اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے

مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے

ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینا

لگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیں

اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا

بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں

سنا ہے وہ بھی مرے قتل میں ملوث ہے

وہ بے وفا ہے مگر اتنا بے وفا بھی نہیں

انکار کر رہا ہوں تو قیمت بلند ہے

بکنے پہ آ گیا تو گرا دیں گے دام لوگ

مرنے کو مر بھی جاؤں کوئی مسئلہ نہیں

لیکن یہ طے تو ہو کہ ابھی جی رہا ہوں میں

ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیں

لیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھا

تاریکیاں قبول تھیں مجھ کو تمام عمر

لیکن میں جگنوؤں کی خوشامد نہ کر سکا

تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لینا

ترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیں

ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہے

پتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیں

اٹھا لایا کتابوں سے وہ اک الفاظ کا جنگل

سنا ہے اب مری خاموشیوں کا ترجمہ ہوگا

زندگی وقت کے صفحوں میں نہاں ہے صاحب

یہ غزل صرف کتابوں میں نہیں ملتی ہے

یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیں

آنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیں

مرے خیال کی پرواز بس تمہیں تک تھی

پھر اس کے بعد مجھے کوئی آسماں نہ ملا

اپنے دراز قد پہ بہت ناز تھا جنہیں

وہ پیڑ آندھیوں میں زمیں سے اکھڑ گئے

اب کہاں تک پتھروں کی بندگی کرتا پھروں

دل سے جس دم بھی پکاروں گا خدا مل جائے گا

زخم ابھی تک تازہ ہیں ہر داغ سلگتا رہتا ہے

سینہ میں اک جلیاں والا باغ سلگتا رہتا ہے

اب تک تو اس سفر میں فقط تشنگی ملی

سنتے تھے راستے میں سمندر بھی آئے گا

وہ بھیڑ میں کھڑا ہے جو پتھر لئے ہوئے

کل تک مرا خدا تھا مجھے اتنا یاد ہے

اس شہر میں خوابوں کی عمارت نہیں بنتی

بہتر ہے کہ تعمیر کا نقشہ ہی بدل لو

ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ

مر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگ

جب بھی اس دیوار سے ملتا ہوں رو پڑتا ہوں میں

کچھ نہ کچھ تو ہے یقیناً اس میں پتھر سے الگ

ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہے

سحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں

نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتے

ہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگا