ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ

نفس انبالوی

ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ

نفس انبالوی

MORE BYنفس انبالوی

    ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ

    مر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگ

    یہ بھوک یہ ہوس یہ تنزل یہ وحشتیں

    تعمیر کر رہے ہیں یہ کیسا نظام لوگ

    بربادیوں نے مجھ کو بہت سرخ رو کیا

    کرنے لگے ہیں اب تو مرا احترام لوگ

    انکار کر رہا ہوں تو قیمت بلند ہے

    بکنے پہ آ گیا تو گرا دیں گے دام لوگ

    اس عہد میں انا کی حفاظت کے واسطے

    پھرتے ہیں لے کے ہاتھ میں خالی نیام لوگ

    بیٹھے ہیں خود ہی پاؤں میں زنجیر ڈال کر

    حیراں ہوں بزدلی کے ہیں کتنے غلام لوگ

    کس کس کا اعتبار کریں شہر میں نفسؔ

    چہرہ بدل بدل کے ملے ہیں تمام لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے