اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

نفس انبالوی

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

نفس انبالوی

MORE BYنفس انبالوی

    اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

    تو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتے

    یہ میرے دوست مرے چارہ گر مرے احباب

    نہ چھیڑتے تو مرے زخم بھر گئے ہوتے

    کوئی نگاہ جو اپنی بھی منتظر ہوتی

    تو ہم بھی شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

    اگر وہ میری عیادت کو آ گیا ہوتا

    تو دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے ہوتے

    ہمیں تو شوق سخن نے سمیٹ رکھا ہے

    وگرنہ ہم تو کبھی کے بکھر گئے ہوتے

    انہیں بھی مجھ سے محبت تو ہے نفسؔ لیکن

    میں پوچھتا تو یقیناً مکر گئے ہوتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے