گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتا

نفس انبالوی

گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتا

نفس انبالوی

MORE BYنفس انبالوی

    گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتا

    ہم سے چپ رہ کے تماشہ نہیں دیکھا جاتا

    تیری عظمت ہے تو چاہے تو سمندر دے دے

    مانگنے والے کا کاسہ نہیں دیکھا جاتا

    جب سے صحرا کا سفر کاٹ کے گھر لوٹا ہوں

    تب سے کوئی بھی ہو پیاسا نہیں دیکھا جاتا

    یہ عبادت ہے عبادت میں سیاست کیسی

    اس میں کعبہ یا کلیسا نہیں دیکھا جاتا

    میرے لہجہ پہ نہ جا قول کا مفہوم سمجھ

    بات سچی ہو تو لہجہ نہیں دیکھا جاتا

    عکس ابھرے گا نفسؔ گرد ہٹا دے پہلے

    دھندھلے آئینے میں چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے